اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی اسپیکر نے شام اور یمن میں جنگوں کو بے فائدہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکمت عملی مسائل اور تنازعات کو پُرامن مذاکرات کے ذریعے سے حل کرنے پر مبنی ہے.
مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل ہماری حکمت عملی ہے: ایرانی اسپیکر
ان خیالات کا اظہار 'علی لاریجانی' نے گزشتہ روز تہران میں عالمی بین الپارلیمانی یونین کے صدر 'صابر حسین چودھری' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.
اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آپ کی کارکردگی اور قوم کے برابر میں ذمہ داری کا احساس بعض ممالک سمیت شام اور یمن کی بحرانی صورتحال پر تشویش کی نشاندہی کرتا ہے.
لاریجانی نے کہا کہ اکثر ممالک کے بحرانوں کی وجہ اقتصادی اور بدامنی مسائل کا پھیلانا جو دنیا کی بد امنی کا باعث بن گیا ہے البتہ تمام ممالک کے مستحکم عزم اور ارادے کے ساتھ حل ہوجائے گا.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں عالمی بین الاپارلیمانی یونین کے ایک رکن کے طور پر مسائل اور بحرانوں کے حل کی مدد کرنا چاہیئے.
صابر چودھری نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس یونین کے ایک اہم، اصلی اور موثر رکن ہے اور اس ملک اپنی کوششوں کے ساتھ موجودہ بحرانوں کے حل میں مدد کرسکتا ہے.
انہوں نے مزید کہا کہ شام اور یمن کی صورتحال بہت ہی تشویشناک ہے اور اس ممالک میں جنگ کی روک تھام کے لئے جلد سے مذاکرات کے حل کے لئے کوششیں کریں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کی اصلی وجہ دہشتگردوں کی موجودگی ہے جو ہم ان کی تباہی کے لئے کوشش کررہے ہیں.
عالمی بین الاپارلیمانی یونین کے صدر نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے ساتھ باہمی تعاون کے لئے تیار اور اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح یمن، شام، بحرین، شمالی اور جنوبی کوریا میں مذاکرات کے راستوں کی فراہمی کا خواہاں ہیں.
تفصیلات کے مطابق اس ملاقات کے دوران عالمی بین الاپارلیمانی یونین کے سیکرٹری جنرل 'مارتین چانگانگا' نے عالمی بحرانوں کے حوالے سے ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے اور ایران کی حمایت اور سیاسی حل کا مطالبہ کیا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲